ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیش کی قلت: 100 روپے کے بوسیدہ نوٹوں کی وجہ سے بڑھ سکتا ہے مسئلہ

کیش کی قلت: 100 روپے کے بوسیدہ نوٹوں کی وجہ سے بڑھ سکتا ہے مسئلہ

Mon, 07 May 2018 00:05:31    S.O. News Service

نئی دہلی ،06؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کئی ریاستوں میں کیش کی قلت کے درمیان اب 100 روپے کے پرانے بوسیدہ نوٹوں کی وجہ سے بحران میں مزید شدت آسکتی ہے ۔بینکرس کا کہنا ہے کہ 200 اور 2000 روپے کے نوٹوں کی طرح 100 روپے قیمت کے نوٹوں، خاص طور پر جو اے ٹی ایم کیسٹ میں فٹ ہو سکیں، کی سپلائی بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ 100 روپے کے دستیاب زیادہ تر نوٹ بوسیدہ اور اے ٹی ایم میں ڈالنے کے قابل نہیں ہیں۔ ان میں سے کچھ تو 2005 سے بھی پرانے ہیں۔بینکرس نے ریزرو بینک آف انڈیا سے اس مسئلہ پر فوری طور پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ ایک پبلک سیکٹر بینکوں کے مینیجر نے کہا کہ آر بی آئی 100 روپے کے نئے نوٹ تیزی سے لائے نہیں تو 500 روپے کے نوٹوں پر آنے والے دنوں میں شدید دباؤ ہوگا۔ نوٹ بندی کے فورا بعد RBI نے 100 روپے کے نوٹوں کی سپلائی کو بڑی مقدار میں بڑھا تھا۔ 2016 میں 100 روپے 550 کروڑ پیس نوٹ چلن میں تھے اور RBI نے اسے بڑھا 573.8 کروڑ کر دیا تھا، اگرچہ بینکرس کہتے ہیں کہ یہ کافی نہیں تھا، کیونکہ 100 روپے کے نوٹوں کا استعمال 2000 روپے کے نوٹوں کے چینج کے طور پر ہوا جب 500 روپے کے نوٹ آسانی سے دستیاب نہیں تھے ۔RBI نے کہا کہ 2015۔16 میں مطالبہ کے مقابلے 44 کروڑ پیس کم سپلائی کی گئی تھی۔ 2017-18 کے لیے دیگر اطلاعات اگست کے مایہ میں دستیاب ہوں گی ۔ 


Share: